پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے حالیہ سفارتی پیش رفت پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی کوششیں خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
پاکستانی کوششوں پر ایرانی سفیر کا اعتراف
پاکستان میں ایران کے سفیر Reza Amiri Moghaddam نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی مخلصانہ سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ علاقائی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار ایک مثبت اور تعمیری پہلو کے طور پر سامنے آیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلیٰ سطحی رابطے اور سفارتی گفتگو
سفیر رضا امیری مقدم نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ Mohsin Naqvi نے تہران سے واپسی کے بعد انہیں فون کیا اور ایران سے مذاکرات کی کامیابیوں پر مبارکباد دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سفارتی عمل میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا کردار قابلِ ذکر رہا، جس میں وزیراعظم Shehbaz Sharif اور فیلڈ مارشل Asim Munir کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔
پاکستان کا ثالثی کردار اور خطے میں امن کی کوششیں
ایرانی سفیر کے مطابق نائب وزیراعظم Ishaq Dar اور دیگر پاکستانی حکام نے بھی خلوص کے ساتھ سفارتی کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل میں مثبت پیش رفت ممکن ہوئی۔
امریکا اور ایران کے مجوزہ معاہدے کے اہم نکات سامنے، 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اس پورے عمل میں ایک اہم عنصر ثابت ہوئیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک عملی قدم ہے۔
ایران کی مزاحمت اور مذاکراتی پیش رفت
رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کی ثابت قدمی اور قوم کی مزاحمت نے بھی مذاکراتی عمل کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی عوامی اور عسکری استقامت نے سفارتی سطح پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت اور پاکستان کی ثالثی دونوں عوامل اس پیش رفت میں اہم رہے ہیں، جو مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
خطے میں امن کی امیدیں
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تاہم حتمی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین آئندہ دنوں میں اپنے اختلافات کو کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
