وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک کارروائی کے دوران ایک پاکستانی نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ آسٹریلیا جا کر ہم جنس شادی کے ذریعے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کے مطابق ملزم کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور اسے سری لنکا روانگی کے دوران امیگریشن چیکنگ پر حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم کے موبائل فون سے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ اور ہم جنس شادی سے متعلق مواد بھی برآمد ہوا۔
امیگریشن حکام کے مطابق ملزم ماضی میں بھی غیر قانونی ہجرت کی کوششیں کر چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 2019 میں وہ ایران کے راستے “ڈنکی” لگا کر یورپ جانے کی کوشش میں یونان میں گرفتار ہوا اور بعد ازاں ترکی واپس بھیج دیا گیا تھا، جبکہ 2022 میں اسے مالدیپ سے بھی ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کراچی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری: 47 ارب روپے کی فراڈ رقم واپس
تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک آسٹریلوی شہری کو پناہ کے حصول کے لیے رقم بھی ادا کی تھی اور بعد میں آسٹریلوی شہری پاکستان آیا جہاں دونوں کے درمیان مبینہ طور پر شادی کا معاہدہ بھی ہوا۔
حکام کے مطابق ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
