جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے دفاع کے لیے خود متحد ہونا پڑے گا کیونکہ کوئی دوسری طاقت مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں کرے گی۔
کراچی میں منعقدہ اتحادِ امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ اور فلسطین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانا چاہتے ہیں کیونکہ مسلمان کئی دہائیوں سے عالمی ظلم اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشترکہ سیاست، مضبوط معیشت اور اجتماعی دفاع ہی اسلامی دنیا کو طاقتور بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی حمایت کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ دیگر اسلامی ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بنیں تاکہ ایک مضبوط اسلامی بلاک تشکیل دیا جا سکے۔
فضل الرحمان کا حکومت پر سخت تنقید، بدامنی اور سیاسی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے
انہوں نے کہا کہ مسئلہ اب صرف فلسطین تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ عرب ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب اختلافات ختم کرکے اتحاد قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کو شائستگی اور برداشت کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں محبت، جمہوریت اور اسلامی فلاحی نظام کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو ماضی میں دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا جبکہ ان کے کارکنان اور علماء مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مدارس سے متعلق قانون سازی پر عمل درآمد نہ ہونے، مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو تعلیم، روزگار اور تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی نے خطے کی حساس صورتحال اور امریکا۔ایران مذاکرات کے باعث اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے مؤخر کیے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے آئین اور جمہوری نظام کا احترام ناگزیر ہے۔
