عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع کے اثرات ابھی تک برقرار ہیں۔
برکس اجلاس میں سخت مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے “یکجہتی” کے پیشِ نظر پہلے متحدہ عرب امارات کا نام لینے سے گریز کیا، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ بعض حقائق واضح کیے جائیں۔
ان کے مطابق جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ حملوں کی مذمت بھی نہیں کی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ابوظہبی کو ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کو ایسی پالیسیوں سے گریز کرنا ہوگا جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بنیں۔
امریکا پر بھی شدید تنقید
اپنے خطاب میں عباس عراقچی نے امریکا کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ “امریکی غنڈہ گردی” کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ اور طاقت کے استعمال کے خلاف مزاحمت کوئی نئی بات نہیں، بلکہ دنیا کی کئی قومیں مختلف شکلوں میں اس طرزِ عمل کا سامنا کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کی ضرورت ہے جو خود کو عالمی دباؤ اور سیاسی جبر کا شکار سمجھتے ہیں۔
“زوال پذیر سلطنتیں ہر حد تک جا سکتی ہیں”
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ زوال پذیر طاقتیں اپنے خاتمے کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی ملک کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم مبصرین اس بیان کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ حالات عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئی صف بندیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کے اثرات خطے کی سیاست اور معیشت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہونی چاہیے، یو اے ای کا مؤقف
نیتن یاہو کے مبینہ دورۂ امارات پر تنازع
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں بنیامین نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورۂ امارات سے متعلق رپورٹس زیرِ بحث ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کا کوئی دورہ نہیں ہوا۔
خطے میں سفارتی توازن کا نیا امتحان
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران، اسرائیل، امریکا اور خلیجی ممالک کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر براہِ راست الزامات خطے میں سفارتی توازن کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب خلیجی ممالک عمومی طور پر خطے میں استحکام اور معاشی تعاون پر زور دیتے رہے ہیں، اسی لیے آنے والے دنوں میں ان بیانات کے سفارتی اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
