اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی، کیونکہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم اور جوہری تنصیبات اب بھی عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی یا صورتحال کے خاتمے پر غور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران کے جوہری ذخائر کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لیا جائے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ ایران میں موجود یورینیم اور اس سے متعلق تنصیبات کو ناکارہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایران سے افزودہ یورینیم واپس لینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے فوجی کارروائیوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، البتہ اشارہ دیا کہ امریکا اور اسرائیل اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: نیتن یاہو کے بیانات پر ترکی کا سخت ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید دو ہفتے درکار ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی افواج اپنے کئی اہم اہداف کو کامیابی سے نقصان پہنچا چکی ہیں، جبکہ دیگر ممکنہ اہداف بھی زیر غور ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو عسکری طور پر شدید نقصان پہنچ چکا ہے، اگرچہ ایران اس حقیقت کو تسلیم نہ کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا آخری مرحلے کی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
