North Korea نے اپنے آئین میں ایک اہم اور سخت نوعیت کی ترمیم کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اگر ملک کے رہنما Kim Jong Un کسی غیر ملکی حملے یا کارروائی میں ہلاک ہو جاتے ہیں تو شمالی کوریا کی فوج دشمن کے خلاف فوری جوابی جوہری حملہ کرنے کی پابند ہوگی۔
اس پیش رفت کو خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی جوہری سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
آئینی ترمیم کب اور کیسے منظور ہوئی؟
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو پیانگ یانگ میں ہونے والے 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران منظور کی گئی۔
بعد ازاں National Intelligence Service (این آئی ایس) یعنی جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے اعلیٰ حکام کو بریفنگ دیتے ہوئے اس ترمیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ترمیم کی بنیادی شق کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے نظرثانی شدہ آئین کے آرٹیکل 3 میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن طاقتوں کے حملوں کے باعث ریاست کے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو تو جوہری حملہ “خودکار اور فوری” طور پر شروع کیا جائے گا۔
اس شق کو بعض تجزیہ کار “خودکار جوابی حملے” کے تصور سے جوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد قیادت کو نشانہ بنانے والی کسی ممکنہ کارروائی کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
ایران اور خطے کی صورتحال کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق اس آئینی تبدیلی کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازعات اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال نے شمالی کوریا سمیت کئی ممالک کی سکیورٹی پالیسیوں پر اثر ڈالا ہے۔
کوریا کا خودکش ڈرونز کی بڑے پیمانے پر تیاری کا حکم
عالمی سطح پر خدشات
ماہرینِ بین الاقوامی امور کے مطابق اس قسم کی آئینی شقیں عالمی سطح پر تشویش پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ اس سے کسی بھی ممکنہ بحران کے دوران کشیدگی تیزی سے بڑھنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق “خودکار ردعمل” کی پالیسی غلط اندازوں یا غیر متوقع حالات میں بڑے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
شمالی کوریا کا جوہری پروگرام
شمالی کوریا کئی برسوں سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف مغربی ممالک کی جانب سے اس پر متعدد پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں، تاہم پیانگ یانگ مسلسل اپنے دفاعی پروگرام کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا آیا ہے۔
شمالی کوریا کی یہ نئی آئینی ترمیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک اپنی جوہری حکمتِ عملی کو مزید سخت اور واضح انداز میں دنیا کے سامنے لا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خطے میں سکیورٹی اور سفارتی صورتحال پر عالمی طاقتوں کی نظریں مزید مرکوز رہیں گی۔
