مریم نواز کے مہنگائی سے متعلق دعوے پر بلال قریشی کا سخت ردعمل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانی اداکار Bilal Qureshi نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مہنگائی سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب Maryam Nawaz کی ایک تقریر کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں وہ 2026 میں مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کرتی نظر آئیں۔

latest urdu news

مریم نواز کا مؤقف کیا تھا؟

وائرل کلپ میں مریم نواز یہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ 2024 سے پہلے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا تھا، جبکہ 2024 اور 2025 میں صورتحال نسبتاً مستحکم رہی۔ ان کے مطابق 2026 میں مہنگائی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور قیمتوں کا رجحان نیچے کی طرف ہے۔

ان کے اس بیان پر اجلاس میں موجود حکومتی عہدیداروں اور شرکاء کی جانب سے تالیاں بھی بجائی گئیں، جس نے سوشل میڈیا پر مزید بحث کو جنم دیا۔

بلال قریشی کا سخت ردعمل

اداکار بلال قریشی نے اس کلپ پر انسٹاگرام اسٹوری میں سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی یہ بات سنجیدگی سے کی گئی ہے؟ ان کے مطابق اس صورتحال میں تالیاں بجانا عوامی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے اپنے ردعمل میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تالیاں دراصل “غریب کے منہ پر امیر کی چپیڑیں” ہیں، جس سے ان کی برہمی واضح ہوتی ہے۔

مزید برآں، انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں عام آدمی کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔

منیب بٹ کے مہذب اور انسان دوست رویے نے مداحوں کے دل جیت لیے

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

بلال قریشی کے بیان کے بعد صارفین کی رائے تقسیم نظر آئی۔ کچھ افراد نے اداکار کے جذبات کو عوامی مشکلات کی عکاسی قرار دیا، جبکہ کچھ نے سیاسی معاملات پر فنکاروں کے سخت تبصروں کو غیر ضروری قرار دیا۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف رکھنے والے صارفین نے مریم نواز کے معاشی دعوؤں کا دفاع کیا، جبکہ ناقدین نے مہنگائی کے اصل اثرات کو اجاگر کیا۔

معاشی بحث ایک بار پھر مرکزِ نگاہ

پاکستان میں مہنگائی ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے، اور سیاسی بیانات اکثر عوامی ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات اور ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی صورتحال عوامی سطح پر کتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لاتا ہے کہ معاشی پالیسیوں اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ عوامی ردعمل کو کس حد تک متاثر کرتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter