ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور سیاسی معاملات کا حل سیاسی جماعتوں کو باہمی بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج ہمیشہ یہی مؤقف رکھتی ہے کہ سیاست دان اپنے اختلافات مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کریں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہایت مضبوط، دیرینہ اور کثیرالجہتی نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو درپیش کسی بھی خطرے کو پاکستان اپنی سلامتی سے جوڑ کر دیکھتا ہے، جبکہ حرمین شریفین کا تحفظ ہر پاکستانی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
بھارتی بیانیہ بے نقاب ہو چکا، پاکستان ہر چیلنج کا جواب دینے کیلئے تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن “غضب للحق” بدستور جاری ہے اور اس میں آنے والا تعطل عارضی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
انہوں نے “معرکۂ حق” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی حکمت عملی اور دفاعی تیاریوں سے مؤثر ڈیٹرینس قائم کیا اور حالات کا رخ تبدیل کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے بھی تیار تھا اور آج بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت پر دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں کے پیچھے بھارتی حمایت شامل ہے۔ ان کے مطابق بھارت دہشتگردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس حقیقت سے خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے بخوبی آگاہ ہیں۔
