چین میں کرپشن کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کے دوران دو سابق وزرائے دفاع کو رشوت ستانی کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سابق وزرائے دفاع وی فینگے اور لی شانگفو کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت کی گئی، جہاں ان پر بھاری رقوم اور قیمتی تحائف بطور رشوت لینے کے الزامات ثابت ہوئے۔
عدالت نے دونوں رہنماؤں کو سزائے موت سنانے کے ساتھ ان کی تمام جائیداد اور اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔
رپورٹس کے مطابق وی فینگے سنہ 2018 سے مارچ 2023 تک چین کے وزیر دفاع کے عہدے پر فائز رہے، جبکہ لی شانگفو نے بھی مختصر عرصے کے لیے وزارتِ دفاع کی ذمہ داریاں انجام دیں، تاہم بعد ازاں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
چینی حکومت گزشتہ چند برسوں سے کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت اعلیٰ حکومتی اور عسکری حکام کے خلاف بھی سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ فیصلے بھی اسی انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہیں۔
