برطانوی حکومت نے جیٹ فیول کی ممکنہ قلت اور اس سے پیدا ہونے والے فضائی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نیا اور عارضی منصوبہ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مسافروں کو آخری وقت کی پرواز منسوخی اور غیر یقینی صورتحال سے بچانا ہے۔
پروازوں کے نظام میں عارضی تبدیلیاں
حکومتی بیان کے مطابق، اس منصوبے کے تحت فضائی کمپنیوں کو اجازت دی جائے گی کہ وہ ایک ہی دن اور ایک ہی منزل کی پروازوں کو ضم (merge) کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک روٹ پر متعدد پروازیں شیڈول ہوں تو انہیں کم کر کے زیادہ مسافروں کو ایک ہی پرواز میں منتقل کیا جا سکے گا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ایندھن کے استعمال کو بہتر بنانا اور ممکنہ قلت کے دوران فضائی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔
ریفائنریز اور بین الاقوامی سپلائی میں اضافہ
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کی چار ریفائنریوں سے پیداوار بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا سے اضافی جیٹ فیول کی سپلائی حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔
حکومتی بیان کے مطابق فی الحال جیٹ فیول دستیاب ہے، تاہم اگر سپلائی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو آنے والے چند ہفتوں میں صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
عالمی توانائی صورتحال اور قیمتوں میں اضافہ
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اگر جون تک فیول کی فراہمی معمول پر نہ آئی تو یورپی فضائی نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 27 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں فی بیرل قیمت 179 ڈالر تک پہنچ گئی۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات: ٹرانسپورٹ کرایوں میں نیا اضافہ
پس منظر: جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی دباؤ
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ چونکہ یہ آبی راستہ دنیا کی تیل اور ایندھن کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس کی بندش نے قیمتوں اور دستیابی دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مسافروں کے لیے ممکنہ اثرات
برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث فضائی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں نئی پالیسی کے تحت ایئرلائنز کو اجازت ہوگی کہ وہ ضرورت پڑنے پر پروازیں منسوخ کریں، تاہم انہیں پیشگی اطلاع دینا ہوگی تاکہ مسافر متبادل انتظامات کر سکیں۔
اس کے ساتھ ایئرلائنز کو یہ بھی ہدایت دی جائے گی کہ وہ متاثرہ مسافروں کو دوسری دستیاب پروازوں میں ایڈجسٹ کریں تاکہ انہیں کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
مجموعی صورتحال
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ ممکنہ توانائی بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور فضائی نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے پیشگی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سپلائی چین میں عدم استحکام برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
