جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گفتگو کے بنیادی آداب سیکھنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس انداز میں ٹرمپ بات کرتے ہیں، وہ کسی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
یہ گفتگو انہوں نے جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام معروف شاعر سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی، جہاں خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے۔ تقریب میں مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہے، جو کھلا تضاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔
پاکستان نے عالمی معاملات سلجھانے کی صلاحیت ثابت کر دی، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان عالمی تنازعات کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی ثالثی دنیا کو ممکنہ بڑے تصادم سے بچانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے کہنے پر مہنگائی کے خلاف احتجاج وقتی طور پر ملتوی کیا گیا ہے، ختم نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب تقریب میں شریک رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا۔
