اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے موقع پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جس کے تحت ریڈ زون میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ ان اقدامات کے باعث شہریوں کی معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حساس صورتحال کے پیش نظر نہ صرف ریڈ زون کو سیل کیا گیا بلکہ سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی اداروں کو بھی ورک فرام ہوم کی ہدایات دی گئیں تاکہ سیکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔
سیکیورٹی پابندیوں کے باعث جُڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہی، جس سے روزمرہ سفر کرنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر شہروں سے آنے والے مسافر بھی لاری اڈوں پر پریشان دکھائی دیے اور متبادل سفری ذرائع تلاش کرتے رہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں
بس سروس بند ہونے کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ٹرینوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ خیبر میل بھی تقریباً تین گھنٹے تاخیر کا شکار رہی، تاہم اس کے باوجود مسافروں نے انتظار جاری رکھا۔
مجموعی طور پر سیکیورٹی اقدامات نے اگرچہ حساس صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مدد دی، لیکن اس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
