امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ایک ہی رات میں کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکنہ آپریشن منگل کی رات بھی ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولے اور امن معاہدے کی طرف پیش رفت کرے، بصورت دیگر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران میں موجود اپنے فوجی اہلکاروں کے انخلا کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا۔ ان کے مطابق اس مشن کے دوران درجنوں طیارے استعمال کیے گئے تاکہ اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے فوجی آپریشن میں 150 سے زائد طیارے شریک تھے، جن میں بمبار، لڑاکا، ایندھن فراہم کرنے والے اور ریسکیو طیارے شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہر طرح کے ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔
ایران کا یو اے ای میں امریکی فوج پر حملے کا دعویٰ، 25 اہلکار ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر
ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کمزور اور غیر مؤثر قرار دیا۔ دوسری جانب انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے پاور پلانٹس، پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے تنازع کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
