ممبئی: بالی وڈ کے ورسٹائل اور سینئر اداکار انوپم کھیر نے اپنی منفرد شخصیت اور ‘گنج پن’ کے حوالے سے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ انہیں سر پر بال اگوانے کے لیے کمپنیوں کی جانب سے بڑی رقوم کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے اپنی اصل شناخت برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔
کیرئیر کا آغاز اور روایتی سوچ کو شکست
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، انوپم کھیر نے جب 1981 میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا، تو وہ روایتی ہیروز کے برعکس سر کے بالوں سے محروم تھے۔ اس وقت کئی ناقدین نے ان کے اداکار بننے کے خواب پر سوالیہ نشان اٹھائے تھے۔ تاہم، انوپم کھیر نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘، ’ہم آپ کے ہیں کون‘ اور ’دی کشمیر فائلز‘ جیسی بلاک بسٹر فلمیں دے کر ثابت کیا کہ ٹیلنٹ کا بالوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ہیئر ٹرانسپلانٹ سے انکار کی وجہ
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انوپم کھیر نے بتایا کہ وہ کئی ہیئر ٹرانسپلانٹ کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے لیے ایک ’ڈریم کلائنٹ‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
"بہت سے لوگ مجھے پیسے دینے کے لیے تیار ہیں کہ میں ایک بار ان سے بال لگوا لوں، لیکن میں نے انہیں یہ موقع نہیں دیا۔ چاہے مجھے کتنے ہی پیسوں کی ضرورت کیوں نہ پڑ جائے، میں یہ سودا نہیں کروں گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ بال لگوانے کے بعد میں وہ انسان نہیں رہوں گا جو میں اصل میں ہوں۔”
بیٹے سکندر کا دلچسپ ردعمل
اداکار نے اپنے بیٹے سکندر کھیر کے بچپن کا ایک دلچسپ قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک بار جب وہ اخبار میں ہیئر آئل کا اشتہار دیکھ رہے تھے، تو ننھے سکندر نے انہیں سنجیدگی سے تنبیہ کی: "ڈیڈ، اس بارے میں سوچنا بھی مت!” انوپم کھیر کا ماننا ہے کہ ان کے خاندان کی ‘حسِ مزاح’ (Humor) نے انہیں ہمیشہ پر اعتماد رہنے میں مدد دی ہے۔
نوجوانوں کے لیے ’اے کے‘
اپنی زندہ دلی کے لیے مشہور اداکار نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ نوجوان نسل کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھنے کے قائل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ انہیں ’سر‘ یا ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کرنے کے بجائے ’اے کے‘ (AK) یا ’انوپم جی‘ کہیں۔
