خلیجی ریاست قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دوحہ حکومت نے ایرانی سفارتخانے کے اہم اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق دارالحکومت دوحا میں تعینات ایرانی سفارتخانے کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا ہے۔ حکام نے ان دونوں عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر قطر چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ سخت اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطری حکام نے اپنے آئل فیلڈز پر حالیہ حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی ہے۔
ایران نے ہمیں دھوکا دیا، کشیدگی ختم کر کے حملے فوری روکے جائیں: قطری وزیراعظم
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف خلیجی خطے کی سیاسی صورتحال متاثر ہوگی بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
