اسلام آباد: سعودی عرب نے خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں تیل کی سپلائی سے متعلق پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں علاقائی صورتحال اور توانائی سپلائی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یانبو بندرگاہ کے ذریعے سپلائی کی یقین دہانی
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ سعودی ذرائع نے بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ یانبو کے ذریعے تیل کی سپلائی کے تسلسل اور سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے خام تیل اٹھانے کی غرض سے ایک جہاز پاکستان سے یانبو روانہ کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے، تاکہ کسی ممکنہ تعطل کی صورت میں سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی خدشات
علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان کی بیشتر پیٹرولیم سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ راستہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب کی جانب سے متبادل سپلائی روٹس اور تعاون کی یقین دہانی پاکستان کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔
سعودی عرب: بزدلانہ حملوں کے بعد ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ
سعودی موقف
ملاقات کے دوران سعودی سفیر نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کی صورت میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب آزمائش کی گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ تعاون برقرار رہے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی سپلائی چین سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، اور پاکستان اپنی توانائی ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے قریبی اتحادیوں سے روابط مضبوط بنا رہا ہے۔
