وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرا افسوس ظاہر کیا اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی کھلی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم کا بیان اور اظہار افسوس
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے اور پاکستان کی عوام و حکومت ایرانی عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی اصول یہ طے کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے سربراہ یا حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، اور اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔
روس کا دورہ ملتوی
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے پیش نظر وزیراعظم نے اپنا متوقع روس کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے میں اعلیٰ سطح کے وفد نے بھی ماسکو جانا تھا، تاہم ایران پر حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے باعث دورہ ممکن نہ رہا۔ پاکستان نے ماسکو کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا: سی آئی اے نے ایرانی اجتماع کا سراغ لگایا، اسرائیل نے حملہ کیا
خطے کی سکیورٹی پر اجلاس
وزیراعظم نے ایران اور افغانستان سمیت خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر غور کرنے کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ حالات میں پاکستان کی پالیسی اور مؤقف پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی اور آنے والے دنوں میں پاکستان اپنے موقف سے متعلق واضح گائیڈ لائنز بھی مرتب کرے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی کس شکل میں کی جائے گی۔ اس اجلاس کا مقصد خطے کی سلامتی اور پاکستانی مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دینا ہے۔
