امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موجودگی سے متعلق سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں ہونے والے ابتدائی دھماکوں میں سے ایک خامنہ ای کے دفتر کے قریب بھی رپورٹ کیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کے وقت خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں پہلے ہی ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم ان کے موجودہ مقام یا منتقلی کے وقت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد امریکی عوام اور مفادات کو ایرانی حکومت کے فوری خطرات سے بچانا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لیے پیشگی کارروائی کی ہے۔
