بھارت جس زبان میں بات کرے گا، اسی زبان میں جواب دیں گے: وزیراعظم شہباز شریف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت اگر جارحیت کی زبان بولے گا تو پاکستان بھی اسی زبان میں جواب دے گا، کیونکہ عزت، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی عبرتناک شکست دی گئی ہے جسے ان کی نسلیں بھی فراموش نہیں کر پائیں گی۔

latest urdu news

یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کے لیے یہاں جمع ہیں اور پاکستان ہر محاذ پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس تاریخی قول کو دہرایا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کہا کہ کشمیری آج بھی پوری دنیا کو یہ حقیقت یاد دلا رہے ہیں کہ کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بھرپور تعاون کرے، اور اس تعاون میں کبھی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور تحریکِ آزادی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا پوری قوم کا فرض ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کی قربانی دے سکتے ہیں مگر آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔

شہباز شریف نے بھارت پر دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی تیز کر رہا ہے، مگر سفارتی محاذ پر بھی اس کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جس محاذ پر بھی جارحیت کرے گا، پاکستان اسی محاذ پر ایسا جواب دے گا جو کبھی نہ بھلایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار

وزیراعظم نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی فتح دراصل کشمیریوں کی بھی فتح ہے، اور اسی معرکے کے بعد کشمیر کاز پوری دنیا میں ایک بار پھر پوری قوت سے زندہ ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قومی اتحاد اور اتفاق ناگزیر ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم اور ناپاک سازشیں ترک کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر ایسا امن جو برابری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم ہے اور غزہ میں امن کے لیے بھی پاکستان نے واضح اور عملی اقدامات کیے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter