وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک کمسن بچے کی سنگین حالت سے متعلق شکایت پر فوری نوٹس لیا اور لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ایمرجنسی چلڈرن وارڈ کا ہنگامی دورہ کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے بچے کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے معاملے کی مکمل انکوائری کی اور فوری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔
متعلقہ ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچوں کے آئی سی یو میں بیڈ کی کمی کی وجہ سے مریض کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کرنا ضروری ہے، جہاں بیڈ دستیاب ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے فوری طور پر ایمبولینس کی فراہمی اور مریض کی بروقت منتقلی کے احکامات دیے تاکہ زندگی بچانے میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے بچوں کے آئی سی یو کے لیے نئے بیڈز فراہم کرنے، فیبری کیٹڈ ایکسٹینشن رومز کے قیام، اور ہنگامی بنیادوں پر اسپتال کی صلاحیت بڑھانے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں بیڈ دستیاب نہ ہوں تو مریضوں کا علاج نجی اسپتالوں میں بھی کروایا جائے گا اور اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
سہیل آفریدی پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں: سلمان اکرم راجا
مزید برآں، وزیرِ اعلیٰ نے سنٹرلائزڈ اسپتال سسٹم کو مؤثر بنانے، پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری، اور ڈاکٹروں کے ہاسٹلز میں کمروں کی کمی کے مسائل پر فوری توجہ دینے کے احکامات جاری کیے۔ دیگر مریضوں کے مسائل بھی موقع پر حل کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈاکٹرز اور اساتذہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی فلاح و سہولت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری اور بچوں کی صحت و جان کے تحفظ کو حکومت کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔
