نیب کا ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر نظام، ہاؤسنگ اسکیم فراڈ کے خاتمے کیلئے اصلاحات کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک "ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر” نظام کی تجویز دی ہے، جس کے ذریعے شہری فوری طور پر کسی ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت، منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور مخصوص پلاٹ کی موجودگی کی تصدیق کر سکیں گے۔

latest urdu news

شہریوں کے ساتھ نجی ہاؤسنگ اور کوآپریٹو سوسائٹیز کے بڑے پیمانے پر فراڈ کے پیش نظر، نیب راولپنڈی نے 4 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا تیار کیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ اصلاحات اسلام آباد اور راولپنڈی میں نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد شہری اپنے جمع کرائے گئے اربوں روپے سے محروم ہوئے جو ایسے پلاٹس کے لیے دیے گئے تھے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔

نیب کی تجاویز میں شامل ہے:

  • ایک مرکزی آن لائن پورٹل قائم کرنا جہاں تمام ریگولیٹر سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان شائع کیے جائیں تاکہ عوام کسی بھی اسکیم کے دعووں کی خود تصدیق کر سکیں۔
  • ہر منظور شدہ پلاٹ کیلئے محفوظ QR یا بار کوڈ والے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنا جو آفیشل ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں تاکہ اوور سیلنگ کی روک تھام ہو سکے۔
  • ہر منصوبے کے لیے لازمی ایسکرو اکاؤنٹ قائم کرنا تاکہ عوام کا سرمایہ صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو اور اس کی نگرانی کسی تیسرے فریق کے ذریعے ہو۔
  • امینٹی پلاٹس کی غیر قانونی فروخت کو قابل سزا فوجداری جرم قرار دینا اور اس پر سخت سزائیں نافذ کرنا۔

نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت خریدار صرف ایک کلک پر یہ تصدیق کر سکیں گے کہ جو پلاٹ فروخت کیا جا رہا ہے وہ حقیقتاً موجود ہے یا نہیں، اسکیم باقاعدہ منظور شدہ ہے یا نہیں، اور اس کی موجودہ ترقیاتی حالت کیا ہے۔ تمام معلومات ایک ہی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔

نیب کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ یہ نظام شہریوں کو بااختیار بنائے گا اور جعلساز ڈویلپرز کی کھوکھلی پیشکشوں سے تحفظ فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت محض ضابطوں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نافذ ہوگی جو ہر شخص کے لیے دستیاب ہو گی۔

ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے کہا کہ یہ اصلاحات لاکھوں متاثرہ شہریوں کے مسائل مستقل طور پر ختم کرنے اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں ہونے والے فراڈ میں سیکڑوں ارب روپے کا نقصان ہوا، جس میں 91 ہزار سے زائد اضافی پلاٹس اور 80 ہزار کنال رقبہ فروخت کیا گیا۔

نیب کا یہ اقدام عوامی شکایات میں اضافے کے بعد کیا گیا، جس میں ڈویلپرز پر شہریوں کی محنت کی کمائی ہڑپ کرنے، منصوبے چھوڑ دینے اور مالی نقصان پہنچانے کے الزامات شامل تھے۔ ڈی جی نیب نے امید ظاہر کی کہ یہ اصلاحات قومی پالیسی کا حصہ بنیں گی اور ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت اور اعتماد کی بحالی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter