ٹرمپ نے سوزی وائلز کی جگہ اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کردیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیر اور موجودہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کو اہم ذمہ داری سونپ دی، جبکہ سوزی وائلز سیاسی ٹیم میں کام جاری رکھیں گی۔

latest urdu news

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ موجودہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی جگہ یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ٹرمپ کے اعلان کے مطابق اسٹیفن ملر پیر سے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے کام شروع کریں گے۔ وہ اس وقت ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز ہیں اور صدر کے قریبی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کو اسٹیفن ملر سے کیا توقعات ہیں؟

امریکی صدر نے اسٹیفن ملر کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور نئی ذمہ داری پر بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

ٹرمپ کے مطابق ملر انتظامی امور اور وائٹ ہاؤس کے معاملات سے واقف ہیں، اسی لیے انہیں چیف آف اسٹاف جیسے اہم عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

چیف آف اسٹاف کا عہدہ امریکی صدر کی انتظامیہ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس عہدے پر فائز شخصیت صدر کے روزمرہ شیڈول، وائٹ ہاؤس کے انتظامی معاملات اور مختلف حکومتی عہدیداروں کے درمیان رابطوں کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

سوزی وائلز کو نئی ذمہ داری مل گئی

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ موجودہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز وائٹ ہاؤس کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد سیاسی ٹیم میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

سوزی وائلز ٹرمپ کی قریبی سیاسی ساتھیوں میں شامل رہی ہیں اور ان کی انتخابی مہم میں بھی اہم کردار ادا کرچکی ہیں۔ تاہم نئے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کی انتظامی ذمہ داریوں کی سربراہی اسٹیفن ملر کے پاس ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر پر اندرونی معلومات سے شرطیں لگا کر ایک لاکھ ڈالر کمانے کا الزام

وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد اہم تبدیلی

وائٹ ہاؤس میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپبلکن پارٹی کو حالیہ وسط مدتی انتخابات میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسے کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ، میں اکثریت سے محروم ہونا پڑا۔

انتخابات سے قبل امریکی میڈیا میں ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہی تھیں کہ صدر ٹرمپ اپنی بعض مشیروں کی کارکردگی اور ریپبلکن پارٹی کی انتخابی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔

تاہم اسٹیفن ملر کی تقرری کو انتخابی نتائج کے بعد وائٹ ہاؤس کی انتظامی ٹیم میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ ملر کو صدر کے قریبی انتظامی مشیر کی حیثیت سے مزید اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں