ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ری پبلکن جماعت سوشل میڈیا صارفین کے طنز و مزاح کا نشانہ بن گئے، ایرانی اور بھارتی سفارت خانے بھی ٹرولنگ میں پیش پیش رہے۔
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی نے جہاں ری پبلکن جماعت کو سیاسی دھچکا پہنچایا، وہیں سوشل میڈیا صارفین کو بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر طنز کرنے کا موقع مل گیا۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر میمز، طنزیہ تبصروں اور دلچسپ ویڈیوز کی بھرمار ہوگئی، جن میں ٹرمپ کی پالیسیوں اور انتخابی مشکلات کو موضوع بنایا گیا۔
کسی نے امریکی صدر کو ڈیموکریٹس کی نام نہاد بلیو سونامی میں بہتے ہوئے دکھایا تو کسی نے ان کی امیگریشن پالیسیوں کو طنز کا نشانہ بنایا۔ انتخابی نتائج پر بنائی گئی ان میمز نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرلی۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی طنز
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک میم میں ٹرمپ کو نیلے رنگ کی بڑی لہر میں بہتے ہوئے دکھایا گیا، جو ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ امریکی سیاست میں نیلا رنگ ڈیموکریٹک جماعت جبکہ سرخ رنگ ری پبلکن جماعت کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایک اور طنزیہ میم میں ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا نے اس مرتبہ خود ان کی اکثریت کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس طرح انتخابی نتائج کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر پیش کیا گیا۔
ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت درکار
ایرانی سفارت خانے نے بھی ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا
صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ میں ایرانی سفارت خانے بھی پیچھے نہیں رہے۔ بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے نے ایک طنزیہ تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکی صدر پر دلچسپ تبصرہ کیا۔
تصویر کے ساتھ پیغام میں کہا گیا کہ ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں میں مصروف تھے، لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ امریکا میں ہی سیاسی تبدیلی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک طنزیہ ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں چند افراد ٹرمپ کو اٹھا کر کچرے کے ڈبے میں پھینکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ مختصر کیپشن درج تھا: ’’دی یو ایس مڈٹرم الیکشنز‘‘ (امریکی وسط مدتی انتخابات)۔
You talked about regime change, but we made it happen. https://t.co/y1qJ2KGO0f
— Iran in India (@Iran_in_India) November 4, 2026
بھارتی میمرز نے بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا
امریکی انتخابی نتائج پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی دلچسپ میمز تیار کیں۔ اس دوران بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا۔
بعض صارفین نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ اگر ٹرمپ کو بھی گیانیش کمار جیسا الیکشن کمشنر مل جاتا تو شاید انہیں انتخابی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ تبصرے بھارتی انتخابی نظام اور سیاسی حالات پر طنز کے تناظر میں کیے گئے۔
The U.S. midterm elections 😄 https://t.co/KDm874Cb1f
— Iran in India (@Iran_in_India) November 4, 2026
امریکی شہریوں نے بھی سڑکوں پر جشن منایا
انتخابی نتائج کے بعد صرف سوشل میڈیا پر ہی ردعمل سامنے نہیں آیا بلکہ امریکا کے مختلف مقامات پر شہریوں کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں بعض امریکی شہری سڑکوں پر جشن مناتے، خوشی سے نعرے لگاتے اور اپنی ویڈیوز بناتے نظر آئے۔ ان ویڈیوز میں بعض افراد کو ’’امریکا آزاد ہوگیا‘‘ کے نعرے لگاتے اور ملک میں نئی سیاسی امید پیدا ہونے کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے دیکھا گیا۔
یوں امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے سیاسی میدان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی، جہاں میمز اور طنزیہ ویڈیوز کے ذریعے ٹرمپ اور ری پبلکن جماعت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
