ضلع جہلم میں ممنوعہ پلاسٹک بیگز کا استعمال ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

جہلم: ضلع جہلم میں محکمہ ماحولیات کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث ممنوعہ پلاسٹک (شاپر) بیگز کا استعمال ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا ہے، جس نے نہ صرف ماحولیاتی بلکہ انسانی صحت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

latest urdu news

رپورٹ کے مطابق حکومتی پابندی کے باوجود شہر سمیت ضلع بھر کے بازاروں، ہوٹلوں، دودھ دہی کی دکانوں اور قصابوں کی دکانوں پر کھلے عام پلاسٹک شاپرز کا استعمال جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گرم سالن، دودھ اور دیگر اشیائے خوردونوش بغیر کسی خوف کے پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال کر فروخت کی جا رہی ہیں، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جب گرم اشیاء پلاسٹک کے رابطے میں آتی ہیں تو اس میں موجود مضر کیمیکلز خوراک میں شامل ہو جاتے ہیں، جو کینسر، معدے کے امراض اور دیگر مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

سندھ بھر میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی کا نفاذ، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت شاپر بیگز پر پابندی کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور دکانداروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان پلاسٹک بیگز کے باعث نالیاں اور سیوریج سسٹم بھی شدید متاثر ہو رہا ہے، جس سے صفائی اور نکاسی آب کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔

عوامی حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں محکمہ ماحولیات کے ذمہ دار افسران کو فعال بنایا جائے یا فرض شناس اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ شاپر بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے اور شہریوں کو ممکنہ مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter