بھارت میں حالیہ دنوں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں راگھو چڈھا اور سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ ممبئی اور پنجاب میں ان کے گھروں کے باہر مظاہرے کیے گئے اور دیواروں پر ’غدار‘ جیسے نعرے درج کیے گئے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے دیگر ارکان کے ہمراہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ان کے اس فیصلے نے پارٹی کے اندر اور حامیوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔
راگھو چڈھا نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنی اصل سمت سے ہٹ چکی ہے اور اب عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندرونی ماحول میں شفافیت اور آزادی اظہار کی کمی ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اروند کیجریوال کی قیادت میں پارٹی رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ پارٹی کی سینیئر رہنما آتشی نے چیلنج کیا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے طرزِ حکمرانی کو عوام کے سامنے رکھیں۔
آسام میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پرتشدد مظاہرے، ہلاکتیں رپورٹ
پارٹی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ منحرف رہنماؤں نے عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام کیا ہے، جبکہ ناقدین اسے بڑے سیاسی کھیل کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد نہ صرف عام آدمی پارٹی کو تنظیمی سطح پر دھچکا لگا ہے بلکہ پارلیمنٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ سیاسی تبدیلی بھارتی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پنجاب سمیت ملک بھر کی سیاست پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔
