پنجاب اسمبلی میں 153 سال پرانے کرسچن میرج ایکٹ 1872 میں ترمیم کے لیے ایک اہم بل پیش کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد مسیحی برادری سے متعلق شادی کے قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس ترمیمی بل کو فیلبوس کرسٹوفر نے اسمبلی میں پیش کیا۔ مجوزہ قانون کے تحت اب مسیحی شادی کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کا عیسائی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ موجودہ قانون میں صرف ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی سمجھا جاتا تھا۔
بل میں شادی کی کم از کم عمر بھی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے عمر 18 سال مقرر کی جائے گی۔ اس وقت نافذ قانون کے تحت لڑکے کی کم از کم عمر 16 سال اور لڑکی کی 13 سال ہے، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی۔
قانونی ماہرین اور مسیحی مذہبی رہنماؤں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف شادی کی عمر میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ طلاق، نکاح کی تنسیخ، وراثت، بچوں کی کفالت اور علیحدگی جیسے معاملات میں بھی جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے 18 سال سے کم عمر شادی پر پابندی کا بل مسترد کردیا
اس حوالے سے پیٹر جیکب نے کہا کہ پاکستان میں رائج پرانے مسیحی عائلی قوانین میں تبدیلی کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق وفاقی سطح پر بھی اس قانون میں ترمیم کر کے شادی کی عمر 18 سال مقرر کی جا چکی ہے، لہٰذا صوبائی سطح پر بھی ایسے اقدامات ناگزیر تھے۔
تاہم بعض مذہبی رہنماؤں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ اس بل کی تیاری کے دوران مختلف چرچز اور مسیحی نمائندوں سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی، جسے آئندہ قانون سازی میں مدنظر رکھنا چاہیے۔
