ایران کی فوج نے امریکی صدر ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھائیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف امریکا اور اسرائیل کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کیلئے یہ راستہ کھلا ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز بیان دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے راستے محفوظ طریقے سے لے جانے کا انتظام کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ
دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث چین اور بھارت سمیت کئی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً نوے فیصد درآمدی تیل کی سپلائی اسی راستے سے آتی ہے۔
