2026 میں جاری ہونے والے ایک نئے پراسپیریٹی انڈیکس نے دنیا کے امیر ترین ممالک کی روایتی درجہ بندی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس تازہ فہرست میں حیران کن طور پر بڑی معیشتیں جیسے فرانس اور جرمنی ٹاپ ٹین میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہیں، جس نے ماہرین کو چونکا دیا ہے۔
یہ نئی درجہ بندی صرف مجموعی معیشت یا فی کس آمدن تک محدود نہیں بلکہ اس بات کو بھی اہمیت دیتی ہے کہ کسی ملک کی دولت عام شہری کی زندگی پر کس حد تک مثبت اثر ڈالتی ہے۔ اس مقصد کے لیے آمدن، معیارِ زندگی، معاشی عدم مساوات اور سماجی ترقی جیسے عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔
مالیاتی تجزیاتی ادارے ”ہیلو سیف“ کی رپورٹ کے مطابق ناروے کو 2026 میں دنیا کا امیر ترین ملک قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ اس کی متوازن معاشی پالیسیز اور عوامی فلاح پر توجہ ہے۔ دوسرے نمبر پر آئرلینڈ جبکہ تیسرے نمبر پر لکسمبرگ موجود ہے۔
رپورٹ میں عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا، جن کی بنیاد پر 50 سے زائد ممالک کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اس فہرست پر حاوی ہے اور ٹاپ پانچ میں شامل تمام ممالک اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم بڑی عالمی معیشتیں پیچھے رہ گئیں—امریکا 17ویں نمبر پر، جرمنی 12ویں اور فرانس 20ویں نمبر پر رہا، جس کی ایک بڑی وجہ آمدن میں عدم مساوات اور سماجی فرق کو قرار دیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک میں بھی نمایاں پوزیشن دیکھی گئی، جہاں قطر 11ویں اور متحدہ عرب امارات 13ویں نمبر پر موجود ہیں۔ یہ نئی درجہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف معاشی حجم نہیں بلکہ عوامی فلاح اور مساوی ترقی ہی حقیقی خوشحالی کا معیار بنتی جا رہی ہے۔
