پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر Reza Amiri Moghadam نے امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اقدام کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے غیرقانونی، اشتعال انگیز اور غیرتعمیری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم ایک خطرناک غلطی ہے جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دراصل امریکا کی جانب سے اپنی ساکھ برقرار رکھنے اور ایک “باعزت واپسی” کا تاثر دینے کی کوشش ہے، جس کے ذریعے طاقت کے استعمال کو جائز ثابت کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق اس پالیسی کے ذریعے نہ صرف اسلحے کے استعمال اور سخت بیانات کو جواز دیا جا رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع اور امریکی ٹیکس دہندگان پر بڑھتے بوجھ کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکی اعلان، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات غلط اندازوں کو جنم دیتے ہیں، جو مزید سنگین غلطیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر امن، معیشت اور استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا “معاشی دہشت گردی” کے مترادف ہے، جس کا مقصد ذاتی مفادات کا تحفظ ہے، جبکہ عالمی برادری اس تمام صورتحال کا بغور مشاہدہ کر رہی ہے۔
