دبئی میں سائیکل اور ای اسکوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر حکام نے نئے اور سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد شہری سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنانا اور حادثات کی شرح میں کمی لانا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک نیا مانیٹرنگ یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جو ان سواریوں کے استعمال کی نگرانی کرے گا۔
استعمال میں اضافہ اور حکومتی اقدام
حالیہ برسوں میں دبئی میں سائیکل اور ای اسکوٹر کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا ہے، خاص طور پر مختصر فاصلے طے کرنے کے لیے یہ ذرائع تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ ماحولیاتی فوائد اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے باعث بھی شہری ان متبادل سواریوں کی طرف مائل ہوئے ہیں۔
تاہم، اس بڑھتے رجحان کے ساتھ حادثات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خدشات بھی سامنے آئے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے نگرانی کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا ہے۔ یہ یونٹ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزیوں کی روک تھام میں بھی کردار ادا کرے گا۔
حفاظتی اقدامات اور لازمی شرائط
نئے قوانین کے تحت سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا اور دور سے نظر آنے والی چمکدار جیکٹ استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر رات کے وقت یا کم روشنی میں سڑک پر موجود افراد کو واضح بنانا ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
اسی طرح ای اسکوٹر استعمال کرنے والوں کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن میں ایک سے زائد افراد کی سواری پر پابندی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ای اسکوٹر چلانے کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کی گئی ہے، تاکہ کم عمر افراد کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
دبئی میں شاہ رخ خان ٹاور پہلے دن ہی مکمل فروخت، 2.1 ارب درہم مالیت
رفتار کی حد اور دیگر پابندیاں
انتظامیہ نے ای اسکوٹر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی ہے، جو شہری علاقوں میں محفوظ ڈرائیونگ کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ ان قوانین کا مقصد نہ صرف سواروں بلکہ پیدل چلنے والوں اور دیگر گاڑیوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
مزید برآں، امکان ہے کہ مستقبل میں ان ضوابط کی خلاف ورزی پر جرمانے اور دیگر سزائیں بھی متعارف کرائی جائیں، تاکہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں کے لیے اہم پیغام
ماہرین کے مطابق ایسے قوانین جدید شہروں میں ٹریفک کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ دبئی جیسے مصروف اور ترقی یافتہ شہر میں متبادل ٹرانسپورٹ کے محفوظ استعمال کے لیے واضح ضوابط ناگزیر ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ پائیدار اور محفوظ ٹرانسپورٹ کلچر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
