عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور خطے میں سپلائی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔

latest urdu news

قیمتوں میں نمایاں اضافہ

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمت میں 2.90 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 109.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی 1.97 ڈالر کے اضافے کے بعد 97.31 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ مختصر مدت میں توانائی منڈیوں میں واضح دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں کسی واضح پیش رفت کا نہ ہونا عالمی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے سپلائی چین پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی براہِ راست عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایران امریکا مذاکرات کی صورتحال

رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی درخواست؟ ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ

امریکا کی جانب سے ان تجاویز پر آج غور کیے جانے کی توقع ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے یا پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی مہنگائی اور توانائی بحران جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

مجموعی صورتحال

فی الحال عالمی منڈیاں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت کی منتظر ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ توانائی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی یا استحکام کی جانب جائیں گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter