پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ انہیں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے مولانا فضل الرحمان کی ثالثی سے متعلق کوئی علم نہیں، تاہم اگر وہ اس معاملے میں کردار ادا کرنے کے لیے آگے آتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
ایمرجنسی یا گورنر راج مسائل کا حل نہیں، شوکت یوسفزئی
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات کے بجائے سیاسی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے اعلامیے پر عمل درآمد کرے اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھے۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق حکومت کو ضد اور انا چھوڑ کر اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں تمام فریقوں کو بات چیت کے ذریعے کسی متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ انہیں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کے حوالے سے کسی پیش رفت کا علم نہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے آگے آتے ہیں تو پی ٹی آئی ان کے کردار کا خیرمقدم کرے گی۔
ان کے مطابق تحریک انصاف نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، لیکن موجودہ صورت حال میں دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آنے کے باعث سیاسی ماحول کشیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے ثالثی کو مسئلے کے حل کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
پی ٹی آئی ورکرز پریشان ہیں، لیڈرشپ واضح مؤقف اپنائے، شوکت یوسفزئی
بلاول بھٹو کے بیان پر بھی ردعمل
پی ٹی آئی رہنما نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھنا چاہیے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا انتہا پسندی نہیں ہے۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق وفاقی وزرا کے بیانات اور دھمکیوں سے سیاسی ماحول مزید خراب ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اختلافات کم کرنے اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
11 اکتوبر سے متعلق پی ٹی آئی رہنما کا بیان
شوکت یوسفزئی نے توقع ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھائے گی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے گی۔ انہوں نے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے گریز کرنے پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط فہمی 11 اکتوبر کو دور ہو جائے گی۔ تاہم اس بیان میں انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اس تاریخ کو کس مخصوص پیش رفت یا اقدام کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر شوکت یوسفزئی کے بیان میں مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور ممکنہ غیر جمہوری اقدامات سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کسی ممکنہ کوشش کے حوالے سے آئندہ پیش رفت اہم ہوگی۔
