پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی مشکلات کے درمیان اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی پر بھی سوالات کا سامنا ہے۔ پارٹی کے مصدقہ ایکس اکاؤنٹ سے عمران خان کا 2025 کا ایک سخت بیان دوبارہ جاری کیے جانے پر پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عمران خان کا پرانا بیان دوبارہ کیوں جاری کیا گیا؟
پاکستان تحریک انصاف کے مصدقہ ایکس اکاؤنٹ سے 26 اکتوبر کو بانی چیئرمین عمران خان سے منسوب ایک بیان دوبارہ شیئر کیا گیا۔ اس بیان میں اعلیٰ عسکری قیادت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے تھے، تاہم یہ عمران خان کا نیا پیغام نہیں تھا بلکہ 2025 میں جاری کیا گیا بیان تھا۔
بیان کو تقریباً ایک سال بعد دوبارہ شائع کیے جانے کے وقت پی ٹی آئی کو سیاسی محاذ پر مختلف مشکلات کا سامنا تھا۔ اس پیش رفت نے پارٹی کے سوشل میڈیا بیانیے اور اس کے سیاسی اثرات کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اس صورتحال کو افسوس ناک قرار دیا۔ بعض رہنماؤں کے نزدیک ذاتی تنقید پر مبنی ایسی پوسٹس پارٹی کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں اور سیاسی رابطوں کے امکانات کو محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سینئر قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر پوسٹس کا معاملہ
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی پوسٹس پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں، بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، کو اعتماد میں لیے بغیر شیئر کی جاتی ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بھی سوال اٹھایا کہ عمران خان کے پرانے بیان کو دوبارہ جاری کرنے کا مقصد کیا تھا اور آیا ایسی سوشل میڈیا حکمت عملی پارٹی کو سیاسی حمایت حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے یا اس کے لیے سیاسی روابط اور مذاکرات کی گنجائش مزید کم کررہی ہے۔
اس معاملے نے پارٹی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سامنے آنے والے پیغامات کے کنٹرول اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں حکومت کے خاتمے کے بعد مشکلات
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی اور تنظیمی حیثیت کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد پارٹی خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت سے محروم ہوگئی۔
رپورٹ میں عمران خان کی مسلسل قید اور ان کی بہنوں کی حراست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپریل 2022 میں وفاقی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پی ٹی آئی کو قانونی کارروائیوں، سیاسی دباؤ اور تنظیمی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے گی: بیرسٹر گوہر
خیبرپختونخوا میں حکومت کا خاتمہ پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ صوبہ پی ٹی آئی کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پارٹی کے لیے اپنی تنظیمی پوزیشن برقرار رکھنا اور سیاسی حمایت میں اضافہ کرنا اہم چیلنجز ہیں۔
عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر کنٹرول کا سوال
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے انتظام سے متعلق سوالات اس سے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان اور پارٹی کے اہم مصدقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے تھے اور بانی کی ہدایات ان کی بہن علیمہ خان کے ذریعے پہنچائی جاتی تھیں۔
علیمہ خان اور ان کی دو بہنوں کی گرفتاری کے بعد اس معاملے کو دوبارہ اہمیت حاصل ہوئی۔
ایک اور پیش رفت میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 15 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بتایا کہ پارٹی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کی ملکیت یا اس پر کنٹرول کا دعویٰ نہیں کرتی۔
تاہم، عمران خان کے ذاتی اکاؤنٹ اور پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ کے درمیان فرق کے باوجود پارٹی کے ڈیجیٹل بیانیے سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال اہم ہے کہ مختلف سیاسی پیغامات کی اشاعت کے فیصلے کون کرتا ہے اور ان کے ممکنہ سیاسی اثرات کا جائزہ کس سطح پر لیا جاتا ہے۔
بیرون ملک مقیم سیاسی مبصرین کے اثر و رسوخ پر بھی بحث
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کو بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز اور سیاسی مبصرین کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ پارٹی کے سیاسی بیانیے پر ان افراد کے ممکنہ اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
عمران خان کے 2025 کے بیان کو دوبارہ جاری کیے جانے سے ان رہنماؤں کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جو پارٹی کے لیے سیاسی گنجائش بحال کرنے اور دیگر سیاسی حلقوں کے ساتھ روابط بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے آئندہ کا سیاسی چیلنج
موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ محاذ آرائی پر مبنی سوشل میڈیا حکمت عملی اس کے سیاسی مقاصد کے حصول میں کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک طرف پارٹی اپنے بانی کی رہائی اور سیاسی حقوق کے لیے سرگرم ہے، تو دوسری طرف اسے سیاسی روابط، تنظیمی معاملات اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی فیصلے کرنا ہیں۔
عمران خان کے پرانے بیان کی دوبارہ اشاعت نے پارٹی کے ڈیجیٹل بیانیے، اندرونی فیصلہ سازی اور سیاسی حکمت عملی کے درمیان تعلق کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تاہم، اس معاملے پر پارٹی کی مکمل حکمت عملی اور متعلقہ اکاؤنٹس کے انتظام سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں واضح نہیں کی گئیں۔
