شمالی بحیرہ عرب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ کروز میزائل نے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، نیول چیف نے عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے شمالی بحیرہ عرب میں پہلی مرتبہ لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آبدوز نے طویل فاصلے تک مار کرنے والا اینٹی شپ کروز میزائل فائر کیا، جس نے مقررہ ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس فائرنگ کے ذریعے آبدوز ہنگور کے جنگی اور ہتھیاروں کے نظام کی عملی کارکردگی کی جانچ کی گئی۔ کامیاب تجربے کو پاک بحریہ کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
میزائل نے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق لائیو فائرنگ کے دوران پی این ایس/ایم ہنگور سے فائر کیا گیا اینٹی شپ کروز میزائل مقررہ ہدف کی جانب بڑھا اور اسے درستگی سے نشانہ بنایا۔
لائیو ویپن فائرنگ میں حقیقی جنگی ہتھیار کے استعمال کے ذریعے متعلقہ پلیٹ فارم اور ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی کو عملی طور پر جانچا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی مشقوں کا مقصد عملے کی تربیت، ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی اور آپریشنل تیاری کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہنگور کی کامیاب فائرنگ سے آبدوز کے ویپن سسٹمز اور جنگی تیاری کی بھی توثیق ہوئی ہے۔
زیرِ آب جنگی صلاحیت میں اہم پیش رفت
پاک بحریہ کے مطابق آبدوز ہنگور کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے اہم سنگ میل ہے۔ آبدوزیں سمندری دفاع میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ وہ زیرِ آب رہتے ہوئے نگرانی اور مختلف جنگی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حالیہ فائرنگ کے ذریعے ہنگور کے عملے کو حقیقی ہتھیار کے استعمال کے دوران اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاری کا عملی مظاہرہ کرنے کا موقع بھی ملا۔
بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، 750 ملین ڈالر مالیت کی منشیات ضبط
نیول چیف نے عملے کو سراہا
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے پی این ایس/ایم ہنگور کی جنگی صلاحیت اور آبدوز کے عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
اس موقع پر نیول چیف کا کہنا تھا کہ زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ آپریشنل تیاری اور قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔
Pakistan Navy’s newly inducted submarine PNS/M HANGOR successfully conducted its maiden Live Weapon Firing in North Arabian Sea, launching an anti ship cruise missile and engaging the designated target with precision at extended range. 1/2 pic.twitter.com/bHn4VE9L79
— DGPR (Navy) (@dgprPaknavy) September 27, 2026
بحری دفاع میں جدید صلاحیتوں کی اہمیت
سمندری حدود کے تحفظ کے لیے جدید ہتھیاروں، نگرانی کے نظام اور تربیت یافتہ عملے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں بحری افواج وقتاً فوقتاً مختلف مشقوں اور لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی جنگی صلاحیتوں کو جانچتی ہیں۔
پاک بحریہ کے مطابق ہنگور کی حالیہ کامیاب فائرنگ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے آبدوز کے جنگی نظام اور عملے کی آپریشنل تیاری کی عملی طور پر تصدیق ہوئی ہے۔
