بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 30 لاکھ روپے مقرر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں بینکوں کے نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ نئے فیصلے کے تحت بینکوں کو یومیہ 30 لاکھ روپے سے زائد نقد لین دین کی رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے اور ورچوئل اثاثہ جات کو انسداد منی لانڈرنگ نظام میں شامل کرنے سے متعلق اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

latest urdu news

تفصیلات کے مطابق بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کے لیے مقررہ حد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بینکوں کو یومیہ 20 لاکھ روپے سے زائد نقد لین دین کی رپورٹ متعلقہ ادارے کو دینا ہوتی تھی، تاہم اب یہ حد بڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

اس فیصلے کے تحت نئی مقررہ حد سے زیادہ نقد لین دین کی تفصیلات ایف ایم یو کو فراہم کرنا ہوں گی۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ مالیاتی لین دین کی نگرانی اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کے حوالے سے کام کرتا ہے۔

صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے پر اتفاق

منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ان اداروں کو اختیارات دینے کا فیصلہ معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کی تکمیل سے مشروط ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اختیارات کی منتقلی سے متعلق عملی پیش رفت طے شدہ طریقہ کار کی تکمیل کے بعد ہوگی۔ فراہم کردہ معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو کون سے مخصوص اختیارات دیے جائیں گے یا ان کا دائرہ کار کیا ہوگا۔

منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مختلف اداروں کے درمیان رابطہ اور مالیاتی معاملات کی نگرانی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس تناظر میں صوبائی اداروں کو اختیارات دینے کا معاملہ انتظامی اور قانونی طریقہ کار سے منسلک ہوگا۔

پنجاب میں زبانی لین دین پر زمین کی فرد اور انتقال پر مکمل پابندی

ورچوئل اثاثہ جات بھی انسداد منی لانڈرنگ نظام میں شامل

حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات کو بھی انسداد منی لانڈرنگ کے نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

ورچوئل اثاثہ جات میں ڈیجیٹل نوعیت کے ایسے اثاثے شامل ہوسکتے ہیں جن کی منتقلی یا لین دین الیکٹرانک ذرائع سے کیا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کو نگرانی کے نظام میں شامل کرنے کا مقصد مالیاتی لین دین سے متعلق قواعد کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔

تاہم دستیاب معلومات میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو حاصل اختیارات کن مخصوص سرگرمیوں پر لاگو ہوں گے اور ان کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

مالیاتی نگرانی کے نظام میں تبدیلیاں

بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد میں اضافہ، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے کی تجویز اور ورچوئل اثاثہ جات کو انسداد منی لانڈرنگ نظام میں شامل کرنے کے فیصلے مالیاتی نگرانی سے متعلق اقدامات کا حصہ ہیں۔

ان فیصلوں کے عملی اثرات کا انحصار متعلقہ قواعد، ایس او پیز اور اداروں کے اختیارات کے واضح تعین پر ہوگا۔ بالخصوص صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے کے معاملے میں طریقہ کار کی تکمیل کو اہم شرط قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینکوں کے نقد لین دین کی نئی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر اقدامات کی عملی تفصیلات متعلقہ اداروں کے طریقہ کار اور فیصلوں کے مطابق واضح ہوں گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں