خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں صوبائی اسمبلی سے منظور کیے گئے 74 قوانین کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ قانون نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو 7 روز میں اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور کے مطابق اس جائزے کا مقصد پی ٹی آئی دور میں متنازع اور عجلت میں منظور کیے گئے قوانین کا جائزہ لینا ہے۔
پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ 74 قوانین کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں 20 صوبائی محکموں سے متعلق قوانین شامل ہیں، جبکہ محکمہ قانون کی تشکیل کردہ کمیٹی مقررہ مدت میں اپنی سفارشات مرتب کرکے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرے گی۔
74 قوانین کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ قانون نے صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قوانین کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کو 7 روز میں اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جائزے میں مختلف صوبائی محکموں سے متعلق قانون سازی کو شامل کیا گیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ان قوانین کا جائزہ لیا جائے گا جنہیں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں صوبائی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا۔
تاہم ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ کمیٹی کن قانونی یا انتظامی معیارات کی بنیاد پر قوانین کا جائزہ لے گی اور سفارشات کی نوعیت کیا ہوگی۔
20 صوبائی محکموں سے متعلق قوانین زیرِ غور
ذرائع کے مطابق جائزے کے دائرے میں 20 صوبائی محکموں سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ ان میں پراسیکیوشن، جامعات اور میڈیکل ٹیچنگ اداروں سے متعلق قانون سازی بھی شامل ہے۔
پراسیکیوشن سے متعلق قوانین کا جائزہ عدالتی کارروائیوں اور مقدمات کی پیروی کے نظام سے متعلق قانونی پہلوؤں کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح جامعات اور میڈیکل ٹیچنگ اداروں سے متعلق قوانین صوبے کے تعلیمی اور طبی اداروں کے انتظامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے گی: بیرسٹر گوہر
اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ارکان کی مراعات سے متعلق قوانین بھی کمیٹی کے جائزے میں شامل ہوں گے۔ اس طرح جائزے کا دائرہ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ مختلف اداروں اور انتظامی معاملات سے متعلق قانون سازی تک پھیلا ہوا ہے۔
ثمر ہارون بلور کا متنازع قانون سازی پر مؤقف
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں انتہائی متنازع اور عجلت میں منظور کیے گئے قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت ان قوانین کا دوبارہ جائزہ لینا چاہتی ہے جن کی منظوری کے طریقہ کار یا مندرجات پر اعتراضات موجود ہیں۔
تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان قوانین کی الگ الگ نشاندہی نہیں کی گئی جنہیں صوبائی حکومت متنازع قرار دے رہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات آنے کے بعد کن قوانین میں ترمیم، منسوخی یا کسی دوسری قانونی کارروائی کی تجویز دی جاسکتی ہے۔
کمیٹی کی سفارشات کے بعد آئندہ لائحہ عمل
ذرائع کے مطابق کمیٹی اپنی سفارشات 7 روز کے اندر متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد ان سفارشات کی بنیاد پر آئندہ اقدامات کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دور کی قانون سازی کا جائزہ ایسے وقت میں لیا جا رہا ہے جب صوبے کے انتظامی اور سیاسی معاملات پر بحث جاری ہے۔ تاہم 74 قوانین کے مستقبل کے بارے میں حتمی صورت حال کمیٹی کی سفارشات اور متعلقہ حکام کے فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگی۔
