لاہور میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے والا ملزم گرفتار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور پولیس نے کم سن بچوں کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے واقعے میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

latest urdu news

گڑھی شاہو پولیس کی کارروائی، مقدمہ درج

ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق پولیس کو ایک شہری کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی کہ اس کے کم سن بھتیجے اور بھانجے سے متعلق ایک نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس پر اہل خانہ کو شدید تشویش لاحق ہے۔

شکایت موصول ہونے کے بعد گڑھی شاہو پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کی اور ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ویڈیو کس طرح سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی اور اس عمل میں مزید کون سے افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کے لیے این سی سی آئی اے سے رابطہ

ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کے ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کرنے اور ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کی نشاندہی کے لیے این سی سی آئی اے کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل شواہد کی جانچ سے ویڈیو کی آن لائن ترسیل اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے اب تک مزید مشتبہ افراد کی شناخت یا گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

لاہور میں بائیک رائیڈر کی مبینہ نازیبا حرکت، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

حکام کے مطابق تحقیقات کا مقصد واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا ویڈیو کو پھیلانے کے پیچھے کوئی منظم سرگرمی یا دیگر عناصر بھی موجود ہیں۔

بچوں کو جرائم کے لیے استعمال کرنے کا رجحان تشویشناک قرار

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے سوشل میڈیا پر بچوں کو جرائم کے ٹاسک دینے اور اس عمل کو چیلنج سمجھنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ اس طرح کے واقعات میں بچوں کی حفاظت، ان کی نجی زندگی اور آن لائن مواد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

بچوں سے متعلق نازیبا مواد کی تشہیر ان کے لیے سنگین نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے مواد کو آگے شیئر کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دینا زیادہ مناسب ہے، تاکہ متاثرہ بچوں کی شناخت اور نجی زندگی کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے کے بعد دیگر ممکنہ ملزمان کے بارے میں پیش رفت متوقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں