اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار اچانک تبدیل کرنے کے فیصلے سے آئل ریفائنریز کو فی لیٹر تقریباً 49 روپے نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے 5 سے 6 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
آئل انڈسٹری نے حکومت کے نئے پیٹرول قیمتوں کے فارمولے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کی آئل ریفائنریز کی مالی صورت حال اور ان کی جدید کاری کے منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے ملک کی پرانی آئل ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کے مطابق ان معاہدوں کے چند ہفتوں بعد قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل ہونے سے مجوزہ سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
وفاقی کابینہ نے نیا پیٹرول فارمولا منظور کرلیا
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی منظوری دی تھی۔ نئے فارمولے کے تحت آئل ریفائنریز کو پیٹرول کی اصل درآمدی لاگت اور جنگ سے پہلے کی قیمتوں کی بنیاد پر مقرر کردہ ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔
اس طریقہ کار کے باعث ریفائنریز کو پیٹرول کی فروخت پر فی لیٹر تقریباً 49 روپے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آئل انڈسٹری کے مطابق اس مالی دباؤ سے ریفائنریز کی آمدنی اور مستقبل کے منصوبہ بندی کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں میں اتفاق
ایکس ریفائنری قیمت وہ قیمت ہوتی ہے جس پر ریفائنری سے پیٹرولیم مصنوعات آگے فروخت کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ اس قیمت کے تعین میں تبدیلی ریفائنریز کی مالی آمدنی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ
پاکستان کی آئل ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے زیر غور ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد پرانی ریفائنریز کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہے۔
آئل انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار سے ریفائنریز کے لیے مجوزہ اپ گریڈیشن منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر ریفائنریز کو متوقع مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی جدید کاری کے منصوبوں پر نظرثانی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
آئل انڈسٹری کے تحفظات
صنعت سے وابستہ حلقوں کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ ریفائنریز کی جدید کاری کے معاہدوں کے فوراً بعد پالیسی میں تبدیلی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے مالی استحکام اور قیمتوں کے تعین کا واضح طریقہ کار اہم سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، نئے فارمولے کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر حتمی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پالیسی کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور ریفائنریز کے مالی معاملات پر اس کے اثرات کیا سامنے آتے ہیں۔ فی الحال آئل انڈسٹری نے ممکنہ نقصان اور اپ گریڈیشن منصوبوں کو درپیش خطرات سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
