کراچی کے جناح اسپتال میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی سہولت ہونے کے باوجود مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں جنریٹرز کے ڈیزل پر 52 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوسری جانب حالیہ بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے دوران اسپتال کے ہنگامی جنریٹرز بھی فعال نہ ہوسکے، جس سے بجلی کی متبادل فراہمی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تین ماہ میں ڈیزل پر 52 لاکھ روپے سے زائد خرچ
روزنامہ جنگ کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سندھ کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران جنریٹرز کے لیے ڈیزل کی مد میں مجموعی طور پر 52 لاکھ 56 ہزار 248 روپے خرچ کیے گئے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کے الیکٹرک کے مطابق جناح اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کے باوجود اسپتال میں جنریٹرز کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ ہونے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تین ماہ کے دوران کتنے لیٹر ڈیزل استعمال ہوا اور اس میں سے کتنی مقدار بجلی کی بندش کے دوران جنریٹرز چلانے پر خرچ کی گئی۔
طویل بریک ڈاؤن کے دوران ہنگامی جنریٹرز بھی فعال نہ ہوسکے
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ شب جناح اسپتال میں بجلی کی طویل بندش کے دوران ہنگامی جنریٹرز بھی فعال نہ ہوسکے۔ اس صورت حال کے بعد اسپتال میں بجلی کی متبادل فراہمی کے انتظامات پر تشویش سامنے آئی۔
اس دوران انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج 2 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ درجنوں مریضوں کی حالت غیر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
جناح اسپتال میں مبینہ غفلت کا الزام، خاتون نے واش روم میں بچے کو جنم دیا یا نہیں؟ انکوائری شروع
تاہم اسپتال انتظامیہ نے دونوں مریضوں کی اموات کا تعلق بجلی کی بندش سے مسترد کردیا۔ انتظامیہ کے مطابق دونوں مریض پہلے ہی شدید بیمار اور تشویشناک حالت میں تھے اور ان کی اموات بنیادی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہوئیں۔
اسپتال انتظامیہ کے اس مؤقف کے بعد بجلی کی بندش اور مریضوں کی اموات کے درمیان تعلق کی تصدیق فراہم کردہ معلومات سے نہیں ہوتی۔
کے الیکٹرک نے اندرونی فالٹ کو وجہ قرار دے دیا
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق جناح اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا واقعہ اندرونی نوعیت کے فالٹ کے باعث پیش آیا، جس کا کے الیکٹرک کے انفرااسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک کا عملہ اندرونی فالٹس دور کرنے کے لیے اسپتال انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں معاونت فراہم کررہا ہے۔
اس مؤقف کے مطابق بجلی کی بندش کی وجہ اسپتال کے اندر پیش آنے والی تکنیکی خرابی تھی، نہ کہ کے الیکٹرک کے نظام میں خرابی۔
اسپتال انتظامیہ نے سافٹ ویئر میں خرابی کو وجہ بتایا
دوسری جانب اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ تنیو نے بجلی کی بندش کے دوران جنریٹرز فعال نہ ہونے کی وجہ سافٹ ویئر میں تکنیکی خرابی بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں اکثر فنی خرابیاں اور بجلی کے فالٹ پیش آتے رہتے ہیں، جن کے دوران جنریٹرز چلائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنریٹرز کو تکنیکی جانچ اور چیکنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ کسی خرابی کی صورت میں متبادل بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی انہیں چلایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر یحییٰ تنیو کے مطابق تین ماہ کے دوران ڈیزل پر خرچ ہونے والی رقم اور استعمال ہونے والے ڈیزل کی مقدار سے متعلق اعدادوشمار ان کے پاس فی الحال موجود نہیں ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے جنریٹرز کے حوالے سے سوالات کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تکنیکی معاملات ہیں اور ان سے متعلق سوالات کرنا مناسب نہیں۔
جناح اسپتال میں ڈیزل کے اخراجات، ہنگامی جنریٹرز کی عدم فعالیت اور بجلی کی بندش کے اسباب سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نے اسپتال کے متبادل بجلی کے نظام کی کارکردگی اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کردیے ہیں۔
