وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
گورنر راج کے نفاذ پر وزیراعظم کی وضاحت
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر حالات کے باعث کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس مقصد کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک بات چیت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے بعد ایک مسودہ طے پایا، تاہم اس کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا اور منظوری نہ مل سکی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
خیبر پختونخوا میں 13 سالہ دور حکومت پر تنقید
شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کو وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا، جس سے جمہوری عمل کو آگے بڑھنے میں مدد ملی۔
انہوں نے گزشتہ 13 سال سے صوبے میں برسراقتدار جماعت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں کتنی جامعات اور اسپتال قائم کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک متعدد مسائل عدم توجہی کا شکار رہے ہیں۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے گی: بیرسٹر گوہر
دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے پر تشویش
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے معاملے پر بھی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا گیا، جس کے بعد دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ان کے بقول اس بات کو نہیں سنا گیا۔
انہوں نے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث چین کے صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا تھا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست بھی جاری رہی، جس سے سیاسی استحکام کے حوالے سے مشکلات پیدا ہوئیں۔
معیشت اور عوامی ریلیف کے لیے اقدامات
شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر مسلسل محنت کی ہے۔ ان کے مطابق عالمی حالات اور خلیج میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔
وزیراعظم کے مطابق اس اسکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غریب طبقے کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سیاسی استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور عوامی مسائل کے حل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کام جاری رکھے گی۔
