اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے لیے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے اداروں سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کرنے والے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے موجود قانونی اقدامات پر عملدرآمد کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا جائے۔
قانونی اور تکنیکی رکاوٹوں کی تفصیلات طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قوانین پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں۔
عدالت نے یہ تفصیلات بھی طلب کی ہیں کہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور مستقبل میں ان کے حل کے لیے کیا تجاویز زیر غور ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق متعلقہ اداروں کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت، اسلام آباد ہائیکورٹ ایمان مزاری کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کرے
پی ٹی اے کی رپورٹ بھی عدالتی حکم کا حصہ
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ کو بھی عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی شرح بھی شامل ہے۔ اس کے ذریعے غیر قانونی مواد کی روک تھام کے سلسلے میں پی ٹی اے کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق معلومات عدالت کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔
آن لائن ہراسانی کی روک تھام پر توجہ
عدالت کی جانب سے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کی ہدایت ایسے معاملات میں اہمیت رکھتی ہے جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ہراسانی، بلیک میلنگ یا کسی شخص کے نجی مواد کی اجازت کے بغیر تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عدالتی حکم کے تحت متعلقہ اداروں کو اپنے اقدامات اور درپیش رکاوٹوں کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں رپورٹ جمع کرانے کی حتمی تاریخ اور آئندہ سماعت کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
