سعودی عرب میں حج سیزن کے قریب آتے ہی حکام نے قوانین پر عملدرآمد سخت کر دیا ہے، جس کے تحت مکہ مکرمہ میں 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی حج ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک پاکستانی شہری کو بغیر حج پرمٹ مکہ میں قیام کرنے پر حراست میں لیا گیا، جبکہ دیگر پانچ افراد کو مبینہ طور پر بغیر اجازت عازمینِ حج کی سہولت کاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں سختی سے ممنوع ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت صرف حج ویزا رکھنے والے افراد کو مکہ میں داخلے اور قیام کی اجازت ہے۔ 18 اپریل کے بعد وزٹ یا دیگر عارضی ویزوں پر موجود افراد کو خلاف ورزی کا مرتکب سمجھا جا رہا ہے، جس پر سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
پاکستان سے حج آپریشن کا آغاز، کراچی سے پہلی پرواز عازمین کو لے کر روانہ
وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ حج پرمٹ قوانین کی خلاف ورزی پر 20 ہزار سے 1 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عمرہ ویزا رکھنے والوں کو پہلے ہی 18 اپریل تک ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی، بصورت دیگر 50 ہزار ریال جرمانہ، 6 ماہ قید اور ملک بدری کی سزا ہو سکتی ہے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر حج پرمٹ افراد کو رہائش یا دیگر سہولیات فراہم کرنا بھی جرم ہے، جس پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
