ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑے تنازع نے جنم لیا ہے، جہاں ایلون مسک نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ اوپن اے آئی دراصل ان کا پیش کردہ تصور تھا، جسے بعد میں اس کے موجودہ منتظمین نے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایلون مسک نے اوکلینڈ، کیلیفورنیا میں جاری ایک مقدمے کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اوپن اے آئی کو ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر قائم کیا تھا، جس کا مقصد انسانیت کی خدمت تھا۔ تاہم ان کے مطابق بعد میں کمپنی کو منافع کمانے والے ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا، جو اصل وعدوں کے برعکس ہے۔
مسک نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے نہ صرف اس منصوبے کا تصور پیش کیا بلکہ اس کا نام رکھا، ابتدائی ٹیم تشکیل دی اور مالی معاونت بھی فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فلاحی اداروں کو اس طرح منافع بخش اداروں میں بدلا جانے لگا تو اس سے خیراتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی کے سربراہ سَم آلٹمین کے وکلاء نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ابتدا ہی سے مسک کے اپنے مقاصد مختلف تھے۔ ان کے مطابق مسک نے کمپنی کو کاروباری شکل دینے کی کوشش کی تاکہ وہ خود اس کی قیادت سنبھال سکیں۔
ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ فراہم کرے گی
وکلاء کا کہنا تھا کہ 2019 میں کمپنی کے ڈھانچے میں تبدیلی اس لیے کی گئی تاکہ جدید کمپیوٹنگ وسائل حاصل کیے جا سکیں اور بڑے اداروں، خصوصاً گوگل، کے ساتھ مقابلہ ممکن ہو سکے۔
مقدمے میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے شراکت دار مائیکروسافٹ سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش حیثیت دی جائے اور موجودہ قیادت کو ہٹا دیا جائے۔
یہ مقدمہ نہ صرف اوپن اے آئی کے مستقبل بلکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کرتی صنعت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
