وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہوں پر ہراسانی سے بچانے کے قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی نوعیت کا عنصر ہونا لازمی ہے۔ہراسانی ایکٹ کا اطلاق عمومی نوعیت کی ہر شکایت پر نہیں کیا جا سکتا۔ جنسی عنصر کے بغیر شکایت سننا وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر صدر مملکت کا حکم بحال کردیا، اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔18 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق ہراسانی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ہونا ضروری ہے، ہر نامناسب یا ناپسندیدہ رویہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہراسانی ایکٹ کا اطلاق عمومی نوعیت کی ہر شکایت پر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایکٹ کے تحت جنسی عنصر کے بغیر شکایت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں، نامناسب رویے پر ادارہ اپنے سروس رولز کے تحت ہی تادیبی کارروائی کرسکتا ہے، قانون کا مقصد خواتین اور مردوں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ دینا ہے،عدالت
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ: ٹیکس حکام کو بغیر نوٹس کسی بھی وقت چھاپے کا اختیار حاصل
فیصلے کے مطابق صدر مملکت وفاقی محتسب کے فیصلے کیخلاف نمائندگی سننے کے مجاز ہیں، ہائی کورٹ محتسب کے فیصلے میں محدود آئینی بنیادوں پر ہی مداخلت کرسکتی ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی محتسب نے 2 بینک افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی تھی، صدر مملکت نے دونوں افسروں کی برطرفی کو تبدیل کرکے سرزنش کی سزا دی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کا حکم کالعدم کرکے وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا۔
