کراچی ،امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے، مظلوم فلسطینیوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
عیدگاہ گراؤنڈ میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں نمازِ عید ادا کی گئی، جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان بھی شریک ہوئے۔
نمازِ عید کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین حالات سے گزر رہا ہے اور سیاسی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔
فلسطین کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں صیہونی مظالم عروج پر ہیں، فلسطینی بے سروسامانی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، امت مسلمہ کو ان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فلسطینی ملبے کے ڈھیر پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، صیہونی قوتوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ظلم کی تاریخ دہرائی ہے، وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل پر قدرت کا عذاب نازل ہوگا اور جو ممالک اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں سکیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں مگر غیرت و حمیت کا فقدان ہے، امریکا اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن امریکا کے خلاف مؤقف اپنانے کے بجائے اس سے تعلقات مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم پوری امت مسلمہ فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔
ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں کیے جا رہے جو اتحاد اور استحکام کا باعث بنیں، اپنے شہریوں کو نظر انداز کرنے اور جبری گمشدگیوں سے عوام میں غم و غصہ بڑھتا ہے، بمباری اور جبر مسائل کا حل نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک کے مسائل کا حل وسیع تر مکالمے میں ہے، عید کے بعد امن و امان، مہنگے بجلی بلوں، چینی اور آٹا مافیا کے خلاف بھرپور احتجاجی مہم شروع کی جائے گی، جماعت اسلامی ملک بھر میں ریلیاں نکالے گی، عوام پر زبردستی فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ نمائندے قابل قبول نہیں، اگر ملک میں ہم آہنگی چاہتے ہیں تو سب کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔