لاہور، سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ رول آف لاء کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
تھنک فیسٹیول 2025 کے آخری روز شرکا سے گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جہاں الیکشن چوری ہو گا وہاں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئے گا، ہمیں آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس ملک میں رول آف لاء نہیں ہو گا وہ ترقی نہیں کر سکتا میں، میں ماضی کی سب غلطیوں کا اعتراف کرتا ہوں،35 سال اس نظام میں گزاریں ہیں، بغیر پڑھے آئینی ترمیم ہو گئی ہے، آئین غیر متوازن ہو گیا۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ فوج کو آئینی حدود میں رہنا پڑے گا، جب فوج آئینی حدود سے باہر آتی ہے ملک کا نقصان ہوتا ہے، لیکن فوج کبھی بھی سیاست دان کے بغیر آئینی حدود سے باہر نہیں آتی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 16 سال سے پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کر رہی ہے،تحریک انصاف پختونخوا میں 11 سال سےحکومت کر رہی ہے اور ن لیگ کئی سال سے اقتدار میں ہے لیکن کسی نے صحت ، تعلیم یا انفراسٹرکچر جیسے مسائل کو حل نہیں کیا، یہ ناکامی کی ایک لمبی داستان ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان بھی 2018 میں اپنی طاقت سے نہیں جیتے اس حقیقت کو ماننا چاہیے، اس لیے ہمیں ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے اور ملک کے بڑوں کو مل کر حل نکالنا پڑے گا، سیاست دانوں کو ملک بچانے کے لیے بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اصول کے مطابق جنگ ضرور لڑیں، میں نے پہلی بار تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرایا، 2018 میں یہ نافذ ہوا سالانہ 12 لاکھ روپے تک ٹیکس نہیں تھا، سیاست کی بدقسمتی ہے جب آپ سیاست چھوڑتے ہیں دوستی یاری سوشل لائف ختم ہوجاتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں الزامات کا کھیل ختم کرنا ہوگا، کوئی پارٹی کوئی شخص کوئی انسٹی ٹیوشن اس الزام سے خارج نہیں ہے، آئین اچھا ہے یا برا اس کو فالو کرنا چاہیے، اگر کسی کو آئین پسند نہیں ہے تو مل کر اسے تبدیل کر لیں لیکن توڑیں نہیں۔
