اسلام آباد میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف Raja Nasir Abbas نے کہا ہے کہ مذاکرات کا فیصلہ کسی بھی صورت کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ملک کو درپیش سیاسی بحران کے حل کیلئے ایک سنجیدہ قدم ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور عوام پر بڑھتا ہوا بوجھ نظام کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد ملک کو آئینی اور جمہوری راستے پر واپس لانا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے کیونکہ ان کے بقول یہ افراد بے گناہ ہیں۔ راجا ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں اختلاف رائے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو آگے لے جانا ہے تو بات چیت ناگزیر ہے اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم کو اپوزیشن چیمبر آکر براہ راست بات چیت کرنی چاہیے تاکہ بحران کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن ملک کے مفاد میں مذاکرات چاہتی ہے، تاہم یہ مذاکرات عزت اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
