کیا نمازِ تراویح کے بغیر روزے قبول ہوں گے؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نماز تراویح رمضان المبارک کی ایک خاص عبادت ہے جو عشاء کی نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے،یہ سنت مؤکدہ ہے اور نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے، تراویح کا لغوی مطلب "آرام کرنا” ہے، کیونکہ اس نماز میں ہر چار رکعت کے بعد مختصر وقفہ کیا جاتا ہے، جس میں تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔

latest urdu news

نماز تراویح کی شرعی حیثیت:

تراویح کی نماز ”سنت مؤکدہ“ ہے، یعنی وہ عبادت جسے نبی کریم ﷺ نے باقاعدگی سے انجام دیا اور اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان میں چند راتوں تک صحابہ کرام کے ساتھ نماز تراویح ادا کی، لیکن بعد میں اس خدشے سے جماعت کے ساتھ جاری نہ رکھی کہ کہیں اسے فرض نہ کر دیا جائے۔ (بخاری و مسلم)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اس نماز کو باقاعدہ جماعت کی شکل دی گئی اور اس کی رکعات بیس مقرر کی گئیں، جو آج بھی اکثر مساجد میں پڑھی جاتی ہیں۔

نماز تراویح کی فضیلت

1)گناہوں کی معافی کا ذریعہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام (نماز تراویح) کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ (بخاری و مسلم)

2)رات کے قیام کی عبادت

تراویح کا شمار قیام اللیل (رات کے قیام) میں ہوتا ہے، جو بہت بڑی نیکی اور مقرب الٰہی بننے کا ذریعہ ہے۔

3)قرآن سننے اور سمجھنے کا موقع

رمضان میں تراویح کے دوران مکمل قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے، جو قرآن سننے اور اس پر غور و فکر کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

4)نفس کی تربیت

رمضان میں روزہ رکھنے سے جہاں دن میں بھوک اور پیاس پر قابو پایا جاتا ہے، وہیں رات میں تراویح کی صورت میں طویل قیام سے صبر اور عبادت کی مشقت کو برداشت کرنے کی عادت پڑتی ہے۔

5)اللہ کی قربت کا ذریعہ

حدیث قدسی میں آتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (بخاری) تراویح بھی اسی میں شامل ہے۔

نماز تراویح کتنی ضروری ہے؟

نماز تراویح فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے، یعنی جو شخص جان بوجھ کر چھوڑ دے وہ قابل ملامت ہوگا لیکن گناہگار نہیں ہوگا۔ جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی گھر میں انفرادی طور پر پڑھنا چاہے تو وہ بھی جائز ہے۔

خواتین کے لیے گھر میں ادا کرنا زیادہ بہتر ہے، جبکہ مردوں کے لیے مساجد میں باجماعت پڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

تراویح کی رکعات

نبی کریم ﷺ سے تراویح کی کوئی مخصوص تعداد ثابت نہیں، لیکن صحابہ کے عمل اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق”20 رکعات“ جماعت کے ساتھ پڑھنا امت میں رائج ہے۔

کچھ لوگ 8 رکعات پر بھی عمل کرتے ہیں، جو کہ نفل کی نیت سے جائز ہے، لیکن سنت کے مطابق مکمل 20 رکعات ادا کرنا افضل ہے۔

نماز تراویح رمضان کی ایک عظیم عبادت ہے جو گناہوں کی معافی، جنت کی بشارت اور اللہ کی قربت کا ذریعہ بنتی ہے، اگرچہ یہ فرض نہیں، لیکن نبی کریم ﷺ کے عمل اور صحابہ کے فیصلے کے مطابق اسے پڑھنا انتہائی اجر و ثواب کا باعث ہے، جو لوگ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرتے ہیں، وہ نہ صرف روحانی فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ ان کا دل نورِ ایمان سے منور ہو جاتا ہے۔

شیئر کریں:
frontpage hit counter