ایف آئی اے نے برطانیہ کے ورک ویزے کا وعدہ کرکے 52 لاکھ روپے وصول کرنے، جعلی آئیلٹس سرٹیفکیٹ اور نکاح نامہ فراہم کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزمہ سے 20 لاکھ روپے کی جزوی ریکوری بھی کر لی گئی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی نے برطانیہ ویزا فراڈ کے مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کے نام پر رقم وصول کرنے والی خاتون کو گرفتار کیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمہ نے انہیں برطانیہ بھجوانے اور ورک ویزا دلوانے کا جھانسہ دیا۔ اس مقصد کے لیے مختلف اوقات میں ان سے مجموعی طور پر 52 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
10 لاکھ روپے کے عوض جعلی آئیلٹس سرٹیفکیٹ دیا
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ نے شکایت کنندہ کو 10 لاکھ روپے کے عوض جعلی آئیلٹس سرٹیفکیٹ فراہم کیا۔ بعد ازاں اس نے شادی کا جھانسہ دے کر برطانیہ کا ویزا دلوانے کا وعدہ بھی کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمہ نے اس مقصد کے لیے جعلی نکاح رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور ای اسٹامپ پیپر پر معاہدہ بھی فراہم کیا، جس کے ذریعے شکایت کنندہ کو ویزا حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
برطانیہ کے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان، مستقل رہائش کے لیے شرائط سخت
رقم واپسی کے مطالبے پر دھمکیاں دینے کا الزام
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک اور ملزم نے مبینہ طور پر ای اسٹامپ پیپر پر تیار کیے گئے معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا تھا۔
شکایت کنندہ کے مطابق جب انہوں نے اپنی رقم واپس مانگی تو ملزمان نے رقم لوٹانے سے انکار کر دیا اور انہیں دھمکیاں بھی دیں۔ اس کے بعد معاملہ ایف آئی اے تک پہنچا، جس پر مقدمے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
ملزمہ سے 20 لاکھ روپے برآمد
ایف آئی اے حکام کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار ملزمہ سے 20 لاکھ روپے کی جزوی ریکوری کر لی گئی ہے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ادارے کی جانب سے کیس میں دیگر ملوث افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ بیرون ملک ملازمت اور ویزے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے کہ کسی بھی ایجنٹ یا فرد کو رقم دینے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور فراہم کردہ دستاویزات کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔
