بشریٰ بی بی کی بینائی شدید متاثر، ذاتی خرچ پر فوری علاج کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بینائی متاثر ہونے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ درخواست میں اڈیالہ جیل حکام سے مکمل میڈیکل رپورٹ طلب کرنے اور ذاتی خرچ پر ماہر امراض چشم سے فوری علاج کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد: سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق تشویش کے پیش نظر اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئی متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے جمع کرائی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بینائی شدید متاثر ہو رہی ہے اور انہیں فوری طبی معائنے اور علاج کی ضرورت ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو بشریٰ بی بی کی مکمل میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ ان کی صحت اور آنکھوں کی موجودہ کیفیت سے متعلق تفصیلات سامنے آسکیں۔

ماہر امراض چشم سے علاج کی اجازت مانگ لی

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بینائی میں شدید خرابی کے باعث انہیں ماہر امراض چشم کی خدمات درکار ہیں۔ اس لیے عدالت سے اجازت مانگی گئی ہے کہ انہیں اپنے ذاتی اخراجات پر فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کرانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

درخواست میں جیل حکام سے طبی صورتحال کی مکمل تفصیلات طلب کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ علاج میں تاخیر نہ ہو اور ان کی آنکھوں کے مسئلے کا مناسب طبی جائزہ لیا جا سکے۔

عمران خان اہلیہ کی بیماری پر پریشان، بشریٰ بی بی کے کیسز میں عدالتی ریلیف لینے کی ہدایت

عمران خان نے بھی اہلیہ کی بیماری پر تشویش ظاہر کی تھی

واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں وکیل سے ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی بشریٰ بی بی کی آنکھوں کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق عمران خان نے اس موقع پر بشریٰ بی بی کے مقدمات میں عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

بشریٰ بی بی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق تازہ درخواست میں عدالت سے فوری طبی سہولت اور مکمل میڈیکل رپورٹ کے حصول کے لیے مداخلت کی استدعا کی گئی ہے۔

تاہم درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کسی حکم یا فیصلے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں